
اوکاڑا اور پاکپتن سب سے آگے، لیکن قصور، ساہیوال، وہاڑی اور خانیوال بھی کم نہیں۔ پنجاب میں آلو کی کاشت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

اوکاڑا اور پاکپتن سب سے آگے، لیکن قصور، ساہیوال، وہاڑی اور خانیوال بھی کم نہیں۔ پنجاب میں آلو کی کاشت مسلسل بڑھ رہی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں اس کی وجہ کیا ہو سکتی ہے؟

پنجاب میں آلو کی قیمتیں اس وقت ریکارڈ حد تک گر چکی ہیں۔ منڈیوں میں سٹور کا آلو صرف 5 سے 6 روپے فی کلو میں فروخت ہورہا ہے، جبکہ شہری بازاروں میں یہی آلو 20 روپے فی کلو تک پہنچ جاتا ہے۔ ادھر نئے آلو کی قیمت بھی کم ہو کر 50 روپے فی کلو رہ گئی ہے۔ قیمتوں میں اس شدید کمی کی سب سے بڑی وجہ افغانستان کے ساتھ تجارت کا بند ہونا ہے۔ افغانستان کئی برسوں سے پاکستانی آلو کی سب سے بڑی منڈی رہا ہے۔ گزشتہ پانچ سال میں پاکستان کی آلو برآمدات تقریباً دوگنا بڑھ چکی تھیں، جن کا زیادہ تر حصہ افغانستان جاتا تھا۔ بدقسمتی سے اس سال کسانوں نے زیادہ منافع کی امید پر آلو کی کاشت میں بھی ریکارڈ اضافہ کیا۔ صرف پنجاب میں رواں سال 12 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر آلو کاشت کیا گیا۔ دوسری طرف پچھلی فصل اور بڑی مقدار میں آلو اب بھی کولڈ اسٹوریج میں پڑا ہے، جس نے مارکیٹ میں سپلائی بڑھا کر قیمتوں کو مزید نیچے دھکیل دیا ہے۔

پنجاب میں زراعت آج بھی81 لاکھ سے زائد خاندانوں کے روزگار کا سہارا ہے: حال ہی میں ہونے والی زرعی شماری کے مطابق صوبے میں41 فیصد خاندان اپنی گزر بسر کے لیے زراعت پر انحصار کرتے ہیں۔ لیکن یہ انحصار ہر جگہ ایک جیسا نہیں جہاں دیہی آبادی زیادہ ہے وہاں لوگ زیادہ تر زراعت پیشہ ہیں اور جہاں شہری آبادی غالب ہے وہاں یہ تعداد کافی کم ہے۔ اکثریت دیہی آبادی والے اضلاع بھکر، خوشاب اور ڈیرہ غازی خان میں 70 فیصد سے زائد خاندان زراعت پیشہ ہیں جبکہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ اور قصور جیسے صنتعی اور اکثریتی شہری آبادی والے اضلاع میں یہ شرح 30 فیصد سے بھی کم ہے۔

پاکستان کے 20 سب سے پسماندہ اضلاع میں سے 17 بلوچستان میں واقع ہیں۔ ان اضلاع کے تقریباً 64 لاکھ باشندے آج بھی صحت اور تعلیم اور بہتر معاشی مواقع جیسے بنیادی حقوق سے محروم ہیں۔ جبکہ پنجاب کا کوئی ضلع اس فہرست میں شامل نہیں۔ خیبر پختونخوا کے 2 اور سندھ کا صرف 1 ضلع انتہائی پسماندہ اضلاع میں شامل ہے۔
ماخذ: پاپولیشن کونسل، پاکستان

سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثرات نے سرحدی شہر چمن میں روایتی صحافت کو شدید متاثر کیا ہے، جہاں کبھی اخبارات کی بھرپور طلب ہوا کرتی تھی، اب وہ تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں سے اخبار فروشی کے شعبے سے وابستہ جعفر خان کے مطابق ماضی میں روزانہ صبح سویرے کوئٹہ سے چمن تک گاڑی کے ذریعے ڈھائی ہزار سے زائد اخبارات پہنچائے جاتے تھے، جن کی تقسیم کے لیے کئی افراد کام کرتے تھے۔ چمن کے اخبارفروشوں کے مطابق اس وقت شہری، خصوصاً بزرگ، باقاعدگی سے اخبارات کا مطالعہ کرتے تھے۔ اخبارات گھروں تک موٹر سائیکل کے ذریعے پہنچائے جاتے تھے اور اگر کسی دن تاخیر یا ناغہ ہو جاتا تو شہریوں میں بے چینی پیدا ہو جاتی تھی۔ تاہم اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے۔ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال کے باعث اخبارات کی طلب میں نمایاں کمی آئی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ پیشہ متاثر ہوا بلکہ اس سے وابستہ متعدد افراد بھی بے روزگار ہو گئے ہیں۔
اخبار فروشوں کے مطابق اب چند سو اخبارات ہی چمن پہنچتے ہیں اور یہ زیادہ تر انہی افراد تک محدود ہیں جو آج بھی روایتی انداز میں مطالعے کو ترجیح دیتے ہیں۔