خیبر پختونخوا میں نسوار کی تیاری اور فروخت کو قانونی دائرے میں لانے کے لیے مسلم لیگ ن کی رکن صوبائی اسمبلی آمنہ سردار نے "نسوار ریگولیشن ایکٹ 2026" کا مسودہ صوبائی اسمبلی میں جمع کرا دیا ہے۔مجوزہ قانون کے تحت بغیر لائسنس نسوار کی تیاری اور فروخت جرم قرار پائے گی اور خلاف ورزی پر 30 ہزارروپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔ سکولوں، مدرسوں اور ہسپتالوں کی حدود سے 100 میٹر کے اندر فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔تاہم بل ابھی قانونی الجھن میں پھنسا ہوا ہے۔ اسمبلی سیکرٹریٹ نے سوال اٹھایا ہے کہ یہ بل کس محکمے کے سپرد کیا جائے، اور واضح کیا ہے کہ متعلقہ محکمے کے تعین سے پہلے آگے نہیں بڑھا جائے گا۔ محکمہ قانون بھی اسی سوال کے جواب کا انتظار کر رہا ہے۔
چھ لاکھ سے زائد خواتین کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے نکال دیا گیا ہے۔ سندھ کے 19 اضلاع کی انتظامیہ اسے ری سرٹفکیشن (جانچ پڑتال) کا نتیجہ قرار دے رہی ہے۔ باقی 11 اضلاع میں ری سرٹیفکیشن جلد ہوگی۔
تتلی کو دوستی سے انکار کرنے پر قتل کر دیا گیا۔ خواجہ سرا فرمان عرف تتلی کو یکم جولائی کو گل بہار پشاور میں فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس کے مطابق ملزمان سلمان ولد افضل اور نیاز محمد ولد جان محمد نے ابتدائی تفتیش میں قتل کا اعتراف کیا ہے اور اسے دوستانہ تعلقات کا شاخسانہ قرار دیا۔
8 جولائی کی شب تہکال پلازہ پشاور میں نامعلوم افراد نے خواجہ سرا اسد کو قتل کر دیا۔ یوں رواں برس خیبرپختونخوا میں قتل ہونے والے خواجہ سراوں کی تعداد آٹھ ہو گئی ہے۔
صوبے میں خواجہ سراوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم ٹرانس ایکشن الائنس کی صدر فرزانہ ریاض نے لوک سجاگ کو بتایا ان میں سے پانچ کو مردان میں، دو کو پشاور میں اور ایک کو ایبٹ آباد میں قتل کیا گیا۔ الائنس کے مطابق 2015ء سے 2025ء تک کے دس سالوں میں یہاں 157 خواجہ سرا قتل ہو چکے ہیں۔
فرزانہ ریاض کہتی ہیں کہ اگرچہ پولیس ملزمان کو پکڑ لیتی ہے لیکن وہ جلد رہا ہوجاتے ہیں کیونکہ اکثر کیسز میں خواجہ سراوں کے والدین صلح کرلیتے ہیں۔کچھ کیسز میں دفعات کمزور لگا دی جاتی ہیں جبکہ حکومت ان معاملے میں خاموش تماشائی کی حیثیت سے آگے کبھی نہیں بڑھتی۔ اسی لیئے آج تک خواجہ سراوں کے کسی قاتل کو سزا نہیں مل پائی۔
وہ سمجھتی ہیں کہ یہ حقیقت خواجہ سراوں کو کمزور ثابت کر کے ان کے خلاف جرائم کو بڑھاوا دیتی ہے۔ "آٹھ قتل کے علاوہ 2025ء میں اب تک خواجہ سراوں سے بھتہ مانگنے، انکو ضلع بدر کرنے اور ان پر تشدد کے 15 کیسز سامنے آچکے ہیں۔"
ان کے مطابق بہت سے خواجہ سرا ملک کو خیرباد کہہ چکے ہیں یا پنجاب یا دوسرے اضلاع میں نقل مکانی کر چکے ہیں۔ "اس ملک میں خواجہ سرا کیلئے جینا مشکل ہوچکا ہے۔"
تھر میں پچھلے چھ سات سال سے آسمانی بجلی گرنے کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے۔ ماہرین اسے موسمی سختیوں کا نتیجہ سمجھتے ہیں لیکن ایک تحقیق کے مطابق کیا اس میں انسانی سرگرمیوں کا بھی ہاتھ ہے؟
اب تو آئی ایم ایف نے بھی مان لیا ہے کہ پاکستان میں چینی کا شعبہ امیر اور طاقتور افراد کے فائدے کے لیے ہی چلایا جا رہا ہے۔ عالمی مالیاتی ادارے نے پاکستان میں کرپشن کے حوالے سے اپنی حالیہ رپورٹ میں چینی کے شعبے کو اس بات کی ایک مثال کے طور پر پیش کیا ہے کہ اشرافیہ اور ریاست کیسے باہمی گٹھ جوڑ سے عوامی وسائل پر قبضہ کر کے مالی فائدے حاصل کرتے ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اکثر شوگر ملیں سیاسی رہنماؤں اور قانون سازوں کی ملکیت ہیں جو اپنے مفاد میں پالیسیاں بنوا لیتے ہیں۔ معاملہ گنے کی مجوزہ قیمت طے کرنے کا ہو، درآمد پر ٹیکس لگانے کا ہو یا چینی برآمد کرنے کا ہر فیصلہ مل مالکان کے مفاد میں کیا جاتا ہے۔ رپورٹ نے 2018-19 کی مثال دی جب حکومت نے چینی کی بڑی مقدار میں ایکسپورٹ کی نہ صرف اجازت دی بلکہ اس پر سبسڈی بھی دی جس سے ملک میں چینی کی قلت ہوگئی اور قیمتوں میں اضافہ۔
ایک تحقیقی رپورٹ نے واضح بتایا کہ مصنوعی قلت پیدا کر کے قیمت بڑھائی جاتی ہے لیکن شواہد کے باوجود بس چھوٹے موٹے کارندوں کی گرفتاری کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔