
ضلع مردان کے علاقے سپینکئی میں نہر اپر سوات کے کنارے واقع تاریخی ریسٹ ہاؤس محکمہ آبپاشی کی مسلسل غفلت اور لاپروائی کے باعث کھنڈرات میں تبدیل ہو چکا ہے۔ یہ ریسٹ ہاؤس 1907ء میں نہر اپر سوات کی تعمیر کے ساتھ ساتھ تاج برطانیہ کے انتظامی افسران کے قیام کے لیے تعمیر کیے گئے تقریباً 11 ریسٹ ہاؤسز میں سے ایک ہے۔ آزادی کے بعد یہ عمارت محکمہ آبپاشی کی تحویل میں دے دی گئی تھی۔ اپنے منفرد محل وقوع اور خوبصورت قدرتی مناظر کی وجہ سے مشہور یہ عمارت آج بھوت بنگلے کا منظر پیش کر رہی ہے۔ چھتیں منہدم ہو چکی ہیں، فرنیچر اور دیگر قیمتی سامان غائب ہے، اور اب یہاں صرف چمگاڈروں کا بسیرا ہے۔
لوکل کونسل چیئرمین سجاد عالم کے مطابق ریسٹ ہاؤس کی حفاظت کے لیے چھ اہلکار تعینات ہیں جو تنخواہ اور مراعات تو باقاعدگی سے وصول کر رہے ہیں لیکن ڈیوٹی نہیں دیتے۔ انہوں نے بتایا کہ عمارت کا قدیم فرنیچر اور قیمتی سامان ملازمین اور مقامی افراد اٹھا لے گئے ہیں۔
باخبر ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے ریسٹ ہاؤس کی مرمت کے لیے کئی بار فنڈز جاری کیے گئے، تاہم مختلف حکومتوں کے ادوار میں ایک روپیہ بھی عمارت پر خرچ نہیں کیا گیا



